ابنا: امریکہ کی قومی سلامتی کے ڈپٹی ایڈوائزر بن روڈز نے افغانستان میں اپنی پالیسی کے بارے میں امریکی حکومت کے فیصلے کے اعلان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس بارے میں بہت جلد فیصلہ کرلیا جائے گا ۔ امریکی حکام نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کے تین سے نو ہزار کی تعداد میں فوجی باقی رہینگے ۔ بن روڈز کا یہ بیان افغانستان کے صدرحامد کرزئی کے دورہ واشنگٹن کے ساتھہ ہی سامنے آیا ہے ۔ کرزئی کے امریکہ کے دورہ کا مقصد امریکہ کے صدر کے ساتھہ ملاقات میں 2014عیسوی کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کے طریقہ کار پر گفتگو کرنا بتایا گیا ہے ۔ جبکہ غیر ملکی فوجیوں سے سیکورٹی افغان فورسز کو منتقل کرنا اور اس ملک کی سیکورٹی فورسز کو جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح کرنا اور افغانستان میں امن کے عمل کو آگے بڑھانا جیسے مسائل بھی امریکی حکام سے گفتگو میں افغان صدر کے مدنظر تھے ۔ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے طریقہ کار کے بارے میں افغانستان میں غیر ملکی فورسز کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے حال ہی میں2014عیسوی کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کے بارے میں تین تجاویز پیش کی تھیں جنرل ایلن نے اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کو پیش کی جانے والی اپنی تجاویز میں افغانستان میں 2014عیسوی کے بعد فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے چھہ سے لیکر بیس ہزار کے عدد استعمال کیئے ہیں ۔ جنرل ایلن کی تجاویز ایسی صورت حال میں سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے اس اعلی فوجی افسر کا فوجی مشن آیندہ مہینے ختم ہوہا ہے ۔ اور وہ اپنی مدت سے قبل اس مشن کو ختم کررہے ہیں ۔ یاد رہے کہ کچھہ دنوں قبل ان کی اخلاقی رسوائی کا چرچہ میڈیا میں ہوا تھا ۔ افغانستان کے صدر نے امریکہ کے دورے سے قبل کابل میں اس ملک کی سینٹ کے ارکان کے ایک وفد کے ساتھہ ملاقات میں 2014عیسوی کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ایک تعداد کی موجودگی کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی فوجیوں کو حتمی طور پر افغان معاشرے کی اقدار کا احترام کرنا ہوگا ۔ کرزئی نے اس ملاقات میں مزید کہا کہ امریکی فوج حتمی طور پر افغانستان کے دیہی علاقوں سے نکل کر اپنی چھاؤنیوں و فوجی مراکز میں منتقل ہوجائے ۔ افغان صدر نے اس موقع پر مزید کہا کہ امریکہ حتمی طور پر کابل – واشنگٹن سیکورٹی معاہدے اور افغانستان کی قومی حاکمیت و قومی مفادات کو مد نظر رکھے ۔ امریکی وفد نے بھی افغان صدر کے ساتھہ ملاقاتوں میں افغانستان کے ساتھہ طولانی مدت تعلقات کا مطالبہ کیا یہ ملاقاتیں کہ جو وائٹ ہاؤس میں انجام پائیں ، فریقین نے کابل واشنگٹن سیکورٹی معاہدے ، اس ملک میں جاری امن عمل اور مشترکہ تعلقات کے طریقہ کار کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔ جبکہ 2014عیسوی کے بعد افغانستان میں کچھہ امریکی افواج کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ طالبان گروہ نے خبردار کیا ہے اگر غیرملکی افواج افغانستان میں موجود رہی تو اس ملک میں جنگ جاری رہے گی ۔ طالبان نے تاکید کی ہے کہ اگر افغان حکومت نے 2014عیسوی کے بعد حتی ایک امریکی فوجی کے بھی افغانستان میں باقی رہنے کی موافقت کی تو ملک میں جو کچھہ بھی ہوا اس کی ذمہ دار وہ خود ہوگی ۔ 2014عیسوی کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کچھہ تعداد کا باقی رہنا ، اس ملک میں قومی آشتی کے تمام پروگراموں کو خطرے سے دوچار کردے گا ، اور اس ملک میں خانہ جنگی کا امکان بڑھ جائے گا اور اس ملک کے عوام ، سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی اسے قبول نہیں کریں گی۔ جس کیوجہ سے افغانستان میں وسیع احتجاجی مظاہرے شروع ہوجائینگے ۔
.......
/169